صفحات

Saturday, 7 January 2017

دوریاں مٹ جائیں گی اور فاصلہ رہ جائے گا

دوریاں مٹ جائیں گی اور فاصلہ رہ جائے گا 
ختم ہو جائیں گے رشتے، رابطہ رہ جائے گا
کر کرا ہو جائے گا میٹھا مزہ الفاظ کا 
تلخ لہجے کا زباں پر ذائقہ رہ جائے گا
جھوٹ اک دن بولنے لگ جائیں گی آنکھیں سبھی 
اور منہ تکتا ہمارا آئینہ رہ جائے گا 
منزلیں بڑھ کر مسافر کے گلے لگ جائیں گی
پاؤں چھونے کو ترستا راستہ رہ جائے گا 
بھول جائے گا ہمیں ہر گنگناتا واقعہ 
حافظے میں کلبلاتا حادثہ رہ جائے گا
یوں بدن میں بے حسی بیگانگی بس جائے گی 
روح سے بھی واجبی سا واسطہ رہ جائے گا 
عام ہو جائے گا اتنا سرد مہری کا چلن 
منجمد ہو کر خوشی کا قہقہہ رہ جائے گا
ایک نقطے کی کمی عاجزؔ کہیں رہ جائے گی 
نامکمل دوستی کا دائرہ رہ جائے گا

مشتاق عاجز

No comments:

Post a Comment