غم دل کے جزیروں میں آباد بہت سے ہیں
ہم یاد نہیں کرتے، ہاں یاد بہت سے ہیں
ہر شخص نے اپنے سے اوپر ہی نظر رکھی
اس واسطے دنیا میں ناشاد بہت سے ہیں
کس دیس کو جاتے ہیں، یہ لوگ کفن اوڑھے
کچھ رات کے جگنوہیں، کچھ صبح کی کرنیں ہیں
یادوں کے دِئیے دل میں آباد بہت سے ہیں
اڑتے ہوۓ طائر کے پر تم نے گنے ہوں گے
اس طائرِ دل کے بھی، صیاد بہت سے ہیں
ہنستے ہیں ہنساتے ہیں، سو رنج اٹھا کر بھی
مہتاؔب یہاں اپنے ہمزاد بہت سے ہیں
مہتاب قدر
No comments:
Post a Comment