آج ہے کل کبھی نہیں ہو گا
عشق اوجھل کبھی نہیں ہو گا
یار! تم جانتے ہو انساں کو
یہ "مکمل" کبھی نہیں ہو گا
بھول جاؤں پیار کو تیرے
ایک دن آئے گا یہاں پر جب
کوئی پاگل کبھی نہیں ہو گا
میں "محبت" کلیم کرتا ہوں
غم کا بادل کبھی نہیں ہو گا
محمد کلیم
No comments:
Post a Comment