صفحات

Friday, 10 July 2020

مجھے خراب جنوں کر کے تو نے کیا پایا

مجھے خرابِ جنوں کر کے تُو نے کیا پایا؟
ہزار پھول کھلیں گے جو ایک مرجھایا
تِرے غرور نے محفل میں جو نہ بات سنی
تِرے شعور نے خلوت میں اس کو دہرایا
تمہارے ذکر سے دل کو سکوں ملے نہ ملے
چلو کوئی نہ کوئی "مشغلہ" تو "ہاتھ" آیا
بہت "غرور" تھا اپنی "وفاؤں" پر جس کو
اسی کو "تیری" نگاہ "کرم" نے ٹھکرایا
کچھ اس طرح بھی ملے ہیں فریبِ غم باقی
قریب "پہنچے" تو آگے "سرک" گیا سایا

باقی صدیقی

No comments:

Post a Comment