اک بے انت سمندر میری منزل اے دریا
لیکن خاک اڑائیں تیرے ساحل اے دریا
ہم بھی پربت کاٹتے ہیں اور مٹی چاٹتے ہیں
ہم بھی تیرے کنبے میں ہیں شامل اے دریا
سینوں اور زمینوں کو نہ اگر سیراب کریں
تیری لہریں رہ کر بھی ہم اپنی لہریں ہیں
مٹ جاتے ہیں اپنے آپ سے غافل اے دریا
کتنی عمروں سے میں تیرے ساتھ سفر میں ہوں
کھول اپنے اسرار کبھی تو اے دل، اے دریا
یوسف حسن
No comments:
Post a Comment