صفحات

Friday, 24 July 2020

اک بے انت سمندر میری منزل اے دریا

اک بے انت سمندر میری منزل اے دریا
لیکن خاک اڑائیں تیرے ساحل اے دریا
ہم بھی پربت کاٹتے ہیں اور مٹی چاٹتے ہیں
ہم بھی تیرے کنبے میں ہیں شامل اے دریا
سینوں اور زمینوں کو نہ اگر سیراب کریں
تیرا میرا ہونا ہے لاحاصل اے دریا
تیری لہریں رہ کر بھی ہم اپنی لہریں ہیں
مٹ جاتے ہیں اپنے آپ سے غافل اے دریا
کتنی عمروں سے میں تیرے ساتھ سفر میں ہوں
کھول اپنے اسرار کبھی تو اے دل، اے دریا

یوسف حسن

No comments:

Post a Comment