صفحات

Friday, 24 July 2020

خدا جب تک نہ چاہے آدمی سے کچھ نہیں ہوتا

 خدا جب تک نہ چاہے آدمی سے کچھ نہیں ہوتا

مجھے معلوم ہے میری خوشی سے کچھ نہیں ہوتا

محبت جذبۂ ایثار سے پروان چڑھتی ہے

خلوصِ دل نہ ہو تو دوستی سے کچھ نہیں ہوتا

تعجب ہے، تِرے بندے تِرا انکار کرتے ہیں

یہ کہتے ہیں کہ تیری بندگی سے کچھ نہیں ہوتا

یہاں تو دار پر سب کلمۂ توحید پڑھتے ہیں

طریقِ عشق میں کم ہمتی سے کچھ نہیں ہوتا

غرض تیرے سوا ہر ایک کو مجبور پاتا ہوں

بھروسہ جس پہ کرتا ہوں اسی سے کچھ نہیں ہوتا

خود اپنے حال سے الجھے ہوئے ہیں تیرے دیوانے

ہنسے جائیں، زمانے کی ہنسی سے کچھ نہیں ہوتا


مخمور دہلوی

No comments:

Post a Comment