صفحات

Friday, 24 July 2020

بستی نہیں دیکھی کبھی صحرا نہیں دیکھا

بستی نہیں دیکھی کبھی صحرا نہیں دیکھا
نکلے ہیں تو دیوار کا "سایہ" نہیں دیکھا
ایک اشک پہ حیراں نہ ہو آنکھوں میں ہماری
تم نے ابھی "ٹھہرا" ہوا "دریا" نہیں دیکھا
شاید کہ وہ لوٹ آیا سمندر کے سفر سے
پہلے کبھی اتنا اسے "پیاسا" نہیں دیکھا
پتھر بھی اگر "موم" نہ ہو جائے تو کہنا
تم نے مِرے سجدوں کا سلیقہ نہیں دیکھا
ممکن ہے میں اب خود کو بھی پہچان نہ پاؤں
ایک عمر سے آئینے میں "چہرہ" نہیں دیکھا
میں سر پہ کفن باندھ کے جس دن سے چلا ہوں
تب سے مِری "کشتی" نے "کنارہ" نہیں دیکھا
جگنو کے چمکنے سے بھی ڈرتے ہیں یہاں لوگ
اس "شہر" نے مدت سے "اجالا" نہیں دیکھا
تم "بھیڑ" کا "مرکز" تو بنے پھرتے ہو، لیکن
تم سا بھی نفس شہر میں "تنہا" نہیں دیکھا

نفس انبالوی

No comments:

Post a Comment