صفحات

Wednesday, 26 August 2020

اٹھ چلے وہ تو اس میں حیرت کیا

اٹھ چلے وہ تو اس میں حیرت کیا 
ان کے آگے وفا کی قیمت کیا 
اس کے کوچے سے ہو کے آیا ہوں 
اس سے اچھی ہے کوئی جنت کیا
شہر سے وہ نکلنے والے ہیں 
سر پہ ٹوٹے گی پھر قیامت کیا 
تیرے بندوں کی بندگی کی ہے 
یہ عبادت نہیں عبادت کیا 
کوئی پوچھے کہ عشق کیا شے ہے 
کیا بتائیں کہ ہے محبت کیا 
آنسوؤں سے لکھا ہے خط ان کو 
پڑھ وہ پائیں گے یہ عبارت کیا 
میں کہیں اور دل لگا لوں گا 
مت کرو عشق اس میں حجت کیا 
گرم بازار ہوں جو نفرت کے 
اس زمانے میں دل کی قیمت کیا 
کتنے چہرے لگے ہیں چہروں پر 
کیا حقیقت ہے اور سیاست کیا 

ساغر خیامی 

No comments:

Post a Comment