صفحات

Monday, 21 September 2020

کوئی کسی کوئی کسی کا ہے

 کوئی کسی، کوئی کسی کا ہے

درد جس کا ہے بس اسی کا ہے

تم نہیں سن سکو گے رو دو گے

واقعہ یوں بھی بے بسی کا ہے

ایک ہی لمحہ ہے سفر کا، اور

ایک ہی لمحہ واپسی کا ہے

تم ہو سورج، یہ تم سے کون کہے

مسئلہ آنکھ، اور نمی کا ہے

جو بھی دیکھے اسی کو یہ دیکھے

آئینہ کب بھلا کسی کا ہے؟

تیرے سورج سے ہے کہیں روشن

جو دِیا مجھ میں تیرگی کا ہے


شائستہ سحر

No comments:

Post a Comment