سرمئیں دیدۂ گریاں کو بہت یاد کیا
ہم نے اس جانِ تمنا کو بہت یاد کیا
ایک دیکھا ہوا احوال سناتا ہوں تمہیں
ڈوبنے والے نے نیّا کو بہت یاد کیا
کبھی گلدان میں دیکھی جو بکھرتی ہوئی ریت
ایک صحرائی نے صحرا بہت یاد کیا
اپنے چہرے کو رکھا دیر تلک لال گلال
صبح نے جب رخِ زیبا کو بہت یاد کیا
کام آیا نہ کسی باغ کی سیرابی میں
قطرۂ آب نے دریا کو بہت یاد کیا
اقبال پیرزادہ
No comments:
Post a Comment