صفحات

Saturday, 19 September 2020

چوٹ نئی ہے لیکن زخم پرانا ہے

 چوٹ نئی ہے لیکن زخم پرانا ہے

یہ چہرہ👨 کتنا جانا پہچانا ہے

ساری بستی چپ کی دھند میں ڈوبی ہے

جس نے لب کھولے ہیں وہ دیوانا ہے

آؤ اس سقراط 🍷کا استقبال کریں

جس نے زہر کے گھونٹ کو امرت جانا ہے

اک اک کر کے سب پنچھی دم توڑ گئے

بھری بہار میں بھی گلشن ویرانہ ہے

اپنا پڑاؤ دشت وفا بے آب و گیاہ

تم کو تو دو چار قدم ہی جانا ہے

کل تک چاہت کے آنچل میں لپٹا تھا

آج وہ لمحہ خواب ہے یا افسانا ہے


پروین فنا سید

No comments:

Post a Comment