صفحات

Saturday, 19 September 2020

میرے آبا کہ تھے نامحرم طوق و زنجیر

 بہ نوک شمشیر 


میرے آباء کہ تھے نامحرمِ طوق و زنجیر

وہ مضامیں جو ادا کرتا ہے اب میرا قلم

نوکِ شمشیر پہ لکھتے تھے بہ نوکِ شمشیر

روشنائی سے جو میں کرتا ہوں کاغذ پہ رقم

سنگ و صحرا پہ وہ کرتے تھے لہو سے تحریر

رسول حمزہ توف

اردو منظوم ترجمہ؛ فیض احمد فیض


(تلوار کی نوک سے)


میرے آباء طوق اور زنجیر سے واقف نہ تھے

یہ سبھی موضوع جو میری لکھ رہی نوک قلم

جد امجد یہ مرے لکھتے رہے

نوک سے شمشیر کی، نوک پر تلوار کی

روشنائی سے جو میں ہوں لکھ رہا پیار کے قرطاس پر

یہ، وہ پتھر دشت پر تھے خون سے لکھتے رہے


رسول حمزہ توف

اردو ترجمہ؛ فیض احمد فیض

No comments:

Post a Comment