گھر بنانے کی پریشانی لیے پھرتا ہوں
در بدر بے سر و سامانی لیے پھرتا ہوں
شب کو میں دن سے ملاتا ہوں تو دن کو شب سے
اب یہی سلسلۂ جنبانی لیے پھرتا ہوں
کھلبلی ہے میرے انفاس کے دریا میں بہت
کون سا موجۂ طوفانی لیے پھرتا ہوں
سب پہ ظاہر ہیں میرے عیب و ہنر، ورنہ
میں جیب میں نقشِ سلیمانی لیے پھرتا ہوں
اپنی درویشی کا اس طرح اڑاتا ہوں مذاق
ذہن میں خواہشِ سلطانی لیے پھرتا ہوں
اقبال پیرزادہ
No comments:
Post a Comment