صفحات

Sunday, 20 September 2020

مجھے معجزوں پہ یقیں نہیں

 آرزو


مجھے معجزوں پہ یقیں نہیں

مگر آرزو ہے کہ جب قضا

مجھے بزمِ دہر سے لے چلے

تو پھر ایک بار یہ اذن دے

کہ لحد سے لوٹ کے آ سکوں

تِرے در پہ آ کے صدا کروں

تجھے غمگسار کی ہو طلب 

تو تِرے حضور میں جا رہوں

یہ نہ ہو تو سوئے رہِ عدم 

میں پھر ایک بار روانہ ہوں


رسول حمزہ توف

اردو ترجمہ؛ فیض احمد فیض

No comments:

Post a Comment