پنجرے کا پنچھی
اب کسی بات پہ غصہ نہیں آتا اس کو
ہر کسی بات پہ سر ہنس کے جھکا دیتی ہے
بیچ ناول میں بھی بجلی کو بجھا دیتی ہے
اب بڑے شوق سے کرتی ہے صفائی گھر کی
چھوٹی بہنوں سے خفا ہو کے جھگڑتی بھی نہیں
پیٹھ پر چڑھتا ہے پپو تو بگڑتی بھی نہیں
اب نہیں ہوتا کبھی تیز نمک سالن میں
روٹیاں چاند کی ماند اتر آتی ہیں
چمنیاں وقت سے پہلے ہی سنور جاتی ہیں
تنگ پنجرے کی سلاخوں سے الجھتا پنچھی
صرف پھولوں کی مہک سے بھی بہل جاتا ہے
یہ بھی کیا کم ہے کسی اجنبی سگرٹ کا دھواں
بند دروازوں کی جھریوں سے نکل آتا ہے
ندا فاضلی
No comments:
Post a Comment