صفحات

Thursday, 15 October 2020

دریا کو اور کوئی بہانہ تو ہے نہیں

 دریا کو اور کوئی بہانہ تو ہے نہیں

کہتا ہے چل کہ تیرا ٹھکانہ تو ہے نہیں

اب کہہ دیا، تو بات نبھائیں گے عمر بھر

حالانکہ، دوستی کا زمانہ تو ہے نہیں

لاوا سا کھولتا ہے سدا اندرونِ ذات

آتش فشانِ غم کا دہانہ تو ہے نہیں

دیوانہ ہے جو اس سے توقع رکھے کوئی

آخر وہ رہنما ہے، دِوانہ تو ہے نہیں

تھوڑی سی روشنی ہے اسے جو بھی لوٹ لے

جگنو میاں کے پاس خزانہ تو ہے نہیں

سب جائے حادثہ سے بہت دور ہو گئے

زخمی کی چیخ کوئی ترانہ تو ہے نہیں

چبھ جائیں جانے کس کو مظفر ہمارے شعر

اپنا بھی کوئی خاص نشانہ تو ہے نہیں


مظفر حنفی

No comments:

Post a Comment