وہی لوگ ہیں اور وہی شام ہے
سکھی اس کہانی میں الزام ہے
سکھی تُو مِرے بسترے کا نہیں
سکھی تُو مِرے دل کا آرام ہے
سکھی تیری چادر سلامت رہے
سکھی تیرا مجذوب بدنام ہے
سکھی تجھ کو عادت نہیں شور کی
سکھی میرے سینے میں کہرام ہے
سکھی میں نہیں، میں نہیں ہوں کہیں
سکھی عشق ہے، عشق انعام ہے
سکھی کیوں کروں کام کے نام پر
سکھی کیا محبت کوئی کام ہے
سکھی تجھ کو اچھی لگی یہ زمیں
سکھی یہ سیارہ تِرے نام ہے
علی زریون
No comments:
Post a Comment