صفحات

Thursday, 15 October 2020

اک غزل کہتے تو آباد کئی گھر ہوتے

 یہ تمنا تھی کہ ہم اتنے سخنور ہوتے

اک غزل کہتے تو آباد کئی گھر ہوتے

دوریاں اتنی دلوں میں تو نہ ہوتیں یا رب

پھیل جاتے یہ جزیرے تو سمندر ہوتے

اپنے ہاتھوں پہ مقدر کے نوشتے بھی پڑھ

نہ سہی معنی ذرا لفظ تو بہتر ہوتے

دل پہ اک وحی اور الہام کا رہتا ہے سماں

ہم اگر رند نہ ہوتے تو پیمبر ہوتے

ہم اگر دل نہ جلاتے تو نہ جلتے یہ چراغ

ہم نہ روتے جو لہو آئنے میں پتھر ہوتے

ہم اگر جام بکف رقص نہ کرتے رہتے

تیری راہوں میں ستارے نہ گل تر ہوتے

گھر بنا بیٹھے بیاباں میں دوانے ورنہ

پاؤں اٹھ جاتے تو جبریل کا شہ پر ہوتے

صورتیں یوں تو نہ یاروں کی رلاتی رہتیں

اے غم مرگ یہ صدمے تو نہ دل پر ہوتے

ہم رہے گرچہ تہی دست ہی جعفر طاہر

بس میں یہ بات بھی کب تھی کہ ابوذر ہوتے


جعفر طاہر

No comments:

Post a Comment