سنا ہے وہ اداس ہے
اسے کہو
کبھی بھی تیرگی میں ڈوبنے لگے
کبھی بھی ٹوٹ کر گرے
کبھی بھی ہار کر گرے
تو میری نظم تھام کر گلے لگا لیا کرے
کہ اس میں زندگی کے عام دکھ تو کیا
یہ رائیگانئ حیات بھی کبھی کسی کو رائیگاں نہیں ملی
اسے کہو کہ رو چکے تو دیکھ لے
میری نظر سے کائنات کے فسوں کو کھوج لے تو سوچ لے
کہ منظروں کو کیا ہوا
کسی نے اس کے نام پر زماں مکاں پلٹ دئیے
فلاسفہ کے ذہن میں بنے قدیم زاویوں کے نقش تک الٹ دئیے
کسی نے ان فضاؤں میں خلا میں کہکشاؤں میں
مہیب راستوں کے سورجوں پہ اس کا نام ثبت کر دیا
کسی نے اس کے راستوں میں سرخ پھول بھر دئیے
کسی نے اس کے نام کے دِیے جلا کے طاقچوں میں رکھ دئیے
ابھی بھی وہ اداس ہے
اسے کہو کہ اب بھی تیرگی میں ڈوبنے لگے
ابھی بھی ٹوٹ کر گرے
ابھی بھی ہار کر گرے
تو میری نظم تھام کر گلے لگا لیا کرے
صہیب مغیرہ صدیقی
No comments:
Post a Comment