صفحات

Thursday, 15 October 2020

صحن گلشن میں چلی پھر کے ہوا بسم ﷲ

 صحنِ گلشن میں چلی پھر کے ہوا بسم ﷲ

چشم بد دور بہار آئی ہے کیا بسم ﷲ

مصحف رخ پہ ترے ابروئے پیوستہ نہیں

مو قلم سے یدِ قدرت نے لکھا بسم ﷲ

اس قدر تھا وہ نشہ میں کہ یکایک جو گرا

میں نہ بولا پہ مرے دل نے کہا بسم ﷲ

زلف اس عارضِ رنگیں پہ بکھرنے جو لگی

بول اٹھی منہ سے وہیں بادِ صبا بسم ﷲ

آج گلشن میں ذرا پاؤں جو پھسلا اس کا

گل ہنسا، غنچے نے جلدی سے کہا بسم ﷲ

یار قاتل مرے جو جو کہ لگاتا تھا وار

لب پہ ہر زخم کے نکلے تھی صدا بسم ﷲ

شیشہ و ساقی و ساغر بھی حاضر ہیں نظیرؔ

مے کشی کیجئے اب دیر ہے کیا بسم ﷲ


نظیر اکبر آبادی

No comments:

Post a Comment