صفحات

Wednesday, 14 October 2020

دل دل ہی رہے گا گل تر ہو نہیں سکتا

دل دل ہی رہے گا گلِ تر ہو نہیں سکتا

خوں ہو کے بھی منظورِ نظر ہو نہیں سکتا

جو ظلم کیا، تُو نے کیا بے جگری سے

ایسا تو کسی کا بھی جگر ہو نہیں سکتا

تھک تھک کے تِری راہ میں یوں بیٹھ گیا ہوں

گویا کہ بس اب مجھ سے سفر ہو نہیں سکتا

اظہارِ محبت مِرے آنسو ہی کریں گے

اظہار بہ اندازِ دِگر ہو نہیں سکتا

ہر بُوند لہو کی کبھی بنتی نہیں آنسو

جیسے کہ ہر اک قطرہ گُہر ہو نہیں سکتا

یہ عہدِ جوانی بھی ہے کچھ ایسا زمانہ

بے بادۂ سرجوش بسر ہو نہیں سکتا

لے جائے گا یہ دل مجھے اس بزم میں آخر

جس میں کہ صبا کا بھی گُزر ہو نہیں سکتا

جب تک تِری رحمت کا ہے کشفی کو سہارا

سچ یہ ہے گُناہوں سے حذر ہو نہیں سکتا


کشفی ملتانی

No comments:

Post a Comment