صفحات

Wednesday, 14 October 2020

یہ جو سانپ سیڑھی کا کھیل ہے

 لڈو


یہ جو سانپ سیڑھی کا کھیل ہے

ابھی ساتھ تھے دونوں ہمنوا

وہ بھی ایک پہ

میں بھی ایک پہ 

اسے سیڑھی ملی وہ چڑھ گیا

مجھے راستے میں ہی ڈس لیا

میرے بخت کے کسی سانپ نے

بڑی دور سے پڑا لوٹنا

زخم کھا کے اپنے نصیب کا

وہ ننانونے پہ پہنچ گیا

میں دس کے پھیر میں گھر گیا

اسے 1 نمبر تھا چائیے

جو نہیں ملا سو نہیں ملا

میں بڑھا تو بڑھتا چلا گیا

بس ایک چوکے کی بات تھی

پر اس سے جیتنا میری مات تھی

میں نے جان کے گوٹ غلط چلی

اور سانپ کے منہ میں ڈال دی

یہ جو پیار ہے

کبھی سوچنا

یہ بھی سانپ سیڑھی کا کھیل ہے


امجد اسلام امجد

No comments:

Post a Comment