تم سے وابستہ تھی زندگانی میری
تم گئے، لُٹ گئی شادمانی میری
یہ کہاں آ گئی ہے کہانی میری
اشک کرنے لگے ترجمانی میری
غم کا احساس بھی دل سے جاتا رہا
کس نے لُوٹی ہے یوں شادمانی میری
اب نہ خواہش، نہ حسرت، نہ کوئی خلش
کتنی بے کیف ہے زندگانی میری
مطمئن ہو کے بیٹھیں نہ اہلِ جفا
رنگ لائے گی یہ بے زبانی میری
کیا ڈرائیں گی موجیں ریحانہ مجھے
تیز طُوفان ہے زندگانی میری
ریحانہ نواب
No comments:
Post a Comment