صفحات

Saturday, 21 November 2020

جو یہ ہجر ہی کہیں تھمتا وصال یار ہوتا

 جو یہ ہجر ہی کہیں تھمتا، وصالِ یار ہوتا

یہاں خوش نصیبوں میں میرا بھی تو شمار ہوتا

یہی میکدے حسن کے ہُوا کرتے جو جنت جاں

میں بھی جو نشاط ہوتا، تُو بھی اک خمار ہوتا

لگا لیتے جو کہیں تو اسی خود غرض کو ہم بھی

یہ جو ہوتا اپنا، جو دل پہ کچھ اختیار ہوتا

اسی پہلی تو نظر میں ہی کیا تھی گزری ہم پہ

خوشی مار دیتی جو سامنے وہ شاہکار ہوتا

ہمیں عمروں کا وہ سنیاس بھی تھا رہا گوارا

ترے وعدوں پہ ستم گر جو کہ اعتبار ہوتا

رکھی شرطِ آزمائش تھی، جو تم ہمیں یہ کہتے

شب و روز عید ہوتی، سماں نو بہار ہوتا

ہمیں بھی تو بعد از مرگ جو یاد رکھتی دنیا

اسی شہرِ عشق میں ناظر اے کے مزار ہوتا


اظہر ناظر

No comments:

Post a Comment