صفحات

Sunday, 22 November 2020

رات یاد نگہ یار نے سونے نہ دیا

 رات یادِ نگہِ یار نے سونے نہ دیا

شادئ وعدۂ دلدار نے سونے نہ دیا

ہو گئی صبح در خانہ پہ بیٹھے بیٹھے

فتنۂ چشم فسوں کار نے سونے نہ دیا

شب وہ بیکل رہے کاکل میں پھنسا کر اس کو

شور و فریاد دلِ زار نے سونے نہ دیا

تھا شبِ ہجر میں اک خون کا دریا جاری

ایک پَل دیدۂ خوں بار نے سونے نہ دیا

اس تن زار پہ ایک بار گراں ہے یہ بھی

یار کے سایۂ دیوار نے سونے نہ دیا

اب تو کر دیویں رہا وہ مجھے شاید کہ انہیں

میری زنجیر کی جھنکار نے سونے نہ دیا

رات بھر خون جگر ہم نے کیا ہے عارف

فکر رنگینیٔ اشعار نے سونے نہ دیا


زین العابدین عارف

No comments:

Post a Comment