پرندے کو سب راستوں کا پتا ہے
وہ سب جانتا ہے
اسے علم ہے کون سے راستے پر اڑے گا تو
انتم سرے پر اسے اپنے دن بھر کا چوگا ملے گا
کہاں کون سی رہگزر اس کو محبوب چڑیا کی دہلیز تحفہ کرے گی
کہاں کون سی شاخ پر بیٹھ کر
اپنی محبوب چڑیا کو آنگن میں اڑتا ہوا دیکھنا ہے
اداسی کے کس جال سے پر بچاتے ہوئے لوٹنا ہے
وہ سب جانتا ہے
کہاں دھوپ چھاؤں کے ادغام پر
لاکھ شکلیں بدلتے ہوئے بھوت بادل سے ملنا ہے
اور مل کے ہنسنا بھی ہے
کون سے موڑ پر اک شجر کی جواں موت پر
اس کے باسی پرندوں کے ہمراہ رونا بھی ہے
شام ڈھلتے ہی اپنی ابد تاب تنہائی کے گھونسلے میں پلٹنا بھی ہے
وہ یہ سب جانتا ہے
یہ سب جاننا ہی تو اس کی سزا ہے
پرندے کو سب راستوں کا پتا ہے
ذیشان حیدر نقوی
No comments:
Post a Comment