صفحات

Saturday, 21 November 2020

جو بھی مل جاتا ہے گھر بار کو دے دیتا ہوں

 جو بھی مل جاتا ہے گھر بار کو دے دیتا ہوں

یا کسی اور طلبگار کو دے دیتا ہوں

دھوپ کو دیتا ہوں تن اپنا جھلسنے کےلیے

اور سایہ کسی دیوار کو دے دیتا ہوں

جو دعا اپنے لیے مانگنی ہوتی ہے مجھے

وہ دعا بھی کسی غمخوار کو دے دیتا ہوں

مطمئن اب بھی اگر کوئی نہیں ہے نہ سہی

حق تو میں پہلے ہی حقدار کو دے دیتا ہوں

جب بھی لکھتا ہوں میں افسانہ یہی ہوتا ہے

اپنا سب کچھ کسی کردار کو دے دیتا ہوں

خود کو کر دیتا ہوں کاغذ کے حوالے اکثر

اپنا چہرہ کبھی اخبار کو دیتا ہوں

میری دکان کی چیزیں نہیں بکتی نظمی

اتنی تفصیل خریدار کو دے دیتا ہوں


اختر نظمی

No comments:

Post a Comment