جو بھی مل جاتا ہے گھر بار کو دے دیتا ہوں
یا کسی اور طلبگار کو دے دیتا ہوں
دھوپ کو دیتا ہوں تن اپنا جھلسنے کےلیے
اور سایہ کسی دیوار کو دے دیتا ہوں
جو دعا اپنے لیے مانگنی ہوتی ہے مجھے
وہ دعا بھی کسی غمخوار کو دے دیتا ہوں
مطمئن اب بھی اگر کوئی نہیں ہے نہ سہی
حق تو میں پہلے ہی حقدار کو دے دیتا ہوں
جب بھی لکھتا ہوں میں افسانہ یہی ہوتا ہے
اپنا سب کچھ کسی کردار کو دے دیتا ہوں
خود کو کر دیتا ہوں کاغذ کے حوالے اکثر
اپنا چہرہ کبھی اخبار کو دیتا ہوں
میری دکان کی چیزیں نہیں بکتی نظمی
اتنی تفصیل خریدار کو دے دیتا ہوں
اختر نظمی
No comments:
Post a Comment