کہ میں تو ہوں ہی گنہ گار یہ پتہ ہے مجھے
یہ میری ماں کی دعاؤں کا آسرا ہے مجھے
کوئی تو ہو جو پریشاں ہو میرے بارے میں
کسی سے میں بھی کہوں کچھ نہیں ہوا ہے مجھے
میں ایک وقت اسے دیکھنا سکھاتا تھا
وہ ایک شخص جو آنکھیں دِکھا رہا ہے مجھے
جو کہہ رہا ہے مری شکل تک نہ دیکھے گا
میں جانتا ہوں کہ وہ اب بھی چاہتا ہے مجھے
کوئی نہیں تھا ترا، میں نے ترس کھایا تھا
یہ طعنہ دے کے زمیں میں اتارتا ہے مجھے
عمر حسنین
No comments:
Post a Comment