دل کی دل نے نہ کہی، یوں تو کئی بار ملے
ہم شناسا تھے مگر، صورتِ اغیار ملے
اس سے کہنا کہ نہ اب اور وہ اِترا کے چلے
دوستو! تم کو اگر یارِ طرحدار ملے
بے وفا ہم ہیں تو اے جانِ وفا یونہی سہی
ڈھونڈ لینا جو تمہیں کوئی وفادار ملے
ہم تو دل دے کے بھی دنیا میں اکیلے ہی رہے
جو ہوس کار تھے سب ان کے طرفدار ملے
دل کی قیمت تو محبت کے سوا کچھ بھی نہ تھی
جو ملے، صورتِ زیبا کے خریدار ملے
ہم نے کانٹوں کو بھی سینے سے لگا رکھا ہے
خار بھی ہم سے بہ رنگِ گلِ گلزار ملے
دوریاں فاصلے طے ہو جاتے ہیں آخرِ کار
سرِ گلزار جو بچھڑے تھے سرِ دار ملے
جمیل ملک
No comments:
Post a Comment