صفحات

Saturday, 19 December 2020

اس گلی سے جو گیا تھا لوٹ کے آیا نہیں

 اس گلی سے جو گیا تھا لوٹ کے آیا نہیں

اک مہک جھونکا ہوا کا لوٹ کے آیا نہیں

بوندیوں کے راگ میں ڈوبی گلی ہے آج بھی

سحر سے کوئی نہ نکلا لوٹ کے آیا نہیں

طلسم ایسا تھا کہ سب کو کھینچ لیتی تھی گلی

اب وہ جادو نہ رہا، یا لوٹ کے آیا نہیں

شام اتری ہے وہاں اب کوئی رکتا ہی نہیں

ایک آوازوں کا غوغا لوٹ کے آیا نہیں

بات تو سن لیجیے انور مری ہم ہیں نہیں

جا چکے سب ان کا سایا لوٹ کے آیا نہیں


انور زاہدی

No comments:

Post a Comment