صفحات

Saturday, 19 December 2020

گرنا نہیں ہے اور سنبھلنا نہیں ہے اب

 گرنا نہیں ہے اور سنبھلنا نہیں ہے اب

بیٹھے ہیں رہگزار پہ چلنا نہیں ہے اب

پچھلا پہر ہے شب کا سویرے کی خیر ہو

بجھتے ہوئے چراغ ہیں جلنا نہیں ہے اب

ہے آستیں سے کام نہ دامن سے کچھ غرض

پتھر بنے ہوئے ہیں، پگھلنا نہیں ہے اب

منظر ٹھہر گیا ہے کوئی دل میں آن کر

دنیا کے ساتھ اس کو بدلنا نہیں ہے اب

لب آشنائے حرف تبسم نہیں رہے

دل کے لہو کو اشک میں ڈھلنا نہیں ہے اب


مغنی تبسم

No comments:

Post a Comment