صفحات

Sunday, 20 December 2020

جان جاں تو جو کہے گاؤں میں گیت نئے اور پھر چاہیے کیا

 جان جاں تُو جو کہے


فلمی گیت


جان جاں تُو جو کہے

گاؤں میں گیت نئے

اور پھر چاہیے کیا

سامنے تُو جو رہے

جان جاں تو جو کہے


ناز و انداز تیرے

بدلے بدلے سے ہیں کیوں

اس روش کو میں تیری

کیا کہوں کیا نہ کہوں

تُو ہی بتلا دے مجھے

جان جاں تُو جو کہے


اجنبی آج ہے تو

تیری ہر ایک ادا

یہ کرم ہے کہ ستم

بے رخی یے کہ حیا

فیصلہ کون کرے

جان جاں تُو جو کہے


کوئی شکوہ نہ کروں

شرط الفت ہے یہی

تُو بدل جو گئی

میں نہ بدلوں گا کبھی

آسماں ٹوٹ پڑے

جان جاں تُو جو کہے


تنویر نقوی

No comments:

Post a Comment