صفحات

Saturday, 19 December 2020

شہر کے ایک کشادہ گھر میں اپنے اپنے کام سنبھالے

 شہر کے ایک کشادہ گھر میں


شہر کے ایک کشادہ گھر میں

اپنے اپنے کام سنبھالے

میں اور ایک مری تنہائی

ہم دونوں مل کر رہتے ہیں

باتیں کرتے روتے ہنستے

ہر دکھ سکھ سہتے رہتے ہیں


آج کہ جب سورج بھی نہیں تھا

پھولوں کے کھلنے کا یہ موسم بھی نہیں تھا

اور فلک پر چاند کے چھا جانے کا ہفتہ بیت چکا تھا

دروازے کی گھنٹی نے وہ شور مچایا

جس سے پورا گھر تھرایا

ہم دونوں حیران ہوئے کہ ایسا راہی کون رکا ہے

جو اس گھر کو اپنا گھر ہی سمجھ رہا ہے

کھڑکی سے باہر جھانکا تو بس اک خواب سا منظر دیکھا

سورج بھی دہلیز پہ تھا

اور چاند کواڑ کی اوٹ سے لپٹا جھانک رہا تھا

پھول کھلے تھے

ہم نے اس مہمان کو سر آنکھوں پہ بٹھایا

دل میں جگہ دی

جو اپنے ہمراہ سبھی موسم لے آیا

تھکی ہوئی تنہائی نے مجھ سے

تھوڑی دیر کو مہلت مانگی

میں نے اس کو چھٹی دے دی

ساتھ میں یہ تاکید بھی کر دی

دیکھو کل تم اپنے کام پہ جلدی آنا

بھول نہ جانا

یہ راہی جو سارے موسم لے آتے ہیں

ان کے رستے ساری دنیا میں جاتے ہیں

جس آنگن میں چلنا سیکھیں

اس آنگن میں رک نہیں پاتے

رک جائیں تو تھک جاتے ہیں


زہرا نگاہ

No comments:

Post a Comment