ساقی نے جسے مست نگاہوں سے پلا دی
اس کے لیے جنت ہے بیاباں ہو کہ وادی
ساقی کی نوازش نے تو اور آگ لگا دی
دنیا یہ سمجھتی ہے مِری پیاس بجھا دی
اک بار تجھے عقل نے چاہا تھا بھلانا
سو بار جنوں نے تِری تصویر دکھا دی
اتنی مے ناب میں گرمی نہیں ہوتی
ساقی نے کوئی چیز نگاہوں سے ملا دی
لے دے کے تِرے دامن امید میں ماہر
اک چیز جوانی تھی جوانی بھی لٹا دی
ماہر القادری
No comments:
Post a Comment