صفحات

Saturday, 19 December 2020

ساقی نے جسے مست نگاہوں سے پلا دی

 ساقی نے جسے مست نگاہوں سے پلا دی

اس کے لیے جنت ہے بیاباں ہو کہ وادی

ساقی کی نوازش نے تو اور آگ لگا دی

دنیا یہ سمجھتی ہے مِری پیاس بجھا دی

اک بار تجھے عقل نے چاہا تھا بھلانا

سو بار جنوں نے تِری تصویر دکھا دی

اتنی مے ناب میں گرمی نہیں ہوتی

ساقی نے کوئی چیز نگاہوں سے ملا دی

لے دے کے تِرے دامن امید میں ماہر

اک چیز جوانی تھی جوانی بھی لٹا دی


ماہر القادری

No comments:

Post a Comment