صفحات

Sunday, 20 December 2020

کیوں آنے میں دیر لگا دی راتوں کے بنجارو چاند ستارو

 کیوں آنے میں دیر لگا دی راتوں کے بنجارو، چاند ستارو

آئے ہو تو کچھ لمحے اب میرے ساتھ گزارو، چاند ستارو

میرے دل میں جھانکنے والا میں خود ہوں یا تم ہو کیوں گم صم ہو

کرو دوا کچھ میرے غم کی اے میرے غم خوارو، چاند ستارو

ڈالو مجھ کو اس رستے پر جو ہے پیار کا رستہ گاتا ہنستا

خوشیوں کی اک مست فضا میں جا کر مجھے اتارو، چاند ستارو

میرے لیے یہ رات کا آنگن کم ہے بہت ہی کم ہے، ہر سو غم ہے

اجلی اجلی کھلی فضائیں کہاں ہیں میرے پیارو، چاند ستارو

آج قتیل کی نظروں سے تم کیوں ہوتے اوجھل، رات ہے بوجھل

تم جاؤ تو آئے سویرا، اے میرے دلدارو، چاند ستارو


قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment