صفحات

Sunday, 20 December 2020

ظلم رہے اور امن بھی ہو کیا ممکن ہے تم ہی کہو

 ظلم رہے اور امن بھی ہو

کیا ممکن ہے تم ہی کہو


ہنستی گاتی، روشن وادی

تاریکی میں ڈوب گئی

بیتے دن کی لاش پہ اے دل

میں روتا ہوں تُو بھی رو

ظلم رہے اور امن بھی ہو


ہر دھڑکن پہ خوف کے پہرے

ہر آنسو پر پابندی

یہ جیون بھی کیا جیون ہے

آگ لگے اس جیون کو

ظلم رہے اور امن بھی ہو


اپنے ہونٹ سیۓ ہیں تم نے

میری زباں کو مت روکو

تم کو اگر توفیق نہیں تو

مجھ کو ہی سچ کہنے دو

ظلم رہے اور امن بھی ہو


حبیب جالب

No comments:

Post a Comment