گر عشق سے واقف مرے محبوب نہ ہوتا
ہوتا نہ میں مہجور وہ مہجوب نہ ہوتا
آفت طلب اپنے جس دل و دیدہ نہ ہوتے
طالب میں ترا تو مرا مطلوب نہ ہوتا
میری سی طرح عشق سے ہوتا کبھی بیتاب
اعجاز نما صبر کا ایوب نہ ہوتا
نامہ کا مرے یہ تھا جواب اے مہ نو خط
یہ قائدہ قاصد و مکتوب نہ ہوتا
ترغیب وفا کرنا تجھے مجھ پہ روا تھا
گر شیوہ جفا کا ترا مرغوب نہ ہوتا
حضرت اگر نہ اسکا قد اور زلف بناتے
دنیا میں کہیں فتنہ و آشوب نہ ہوتا
حسرت موہانی
No comments:
Post a Comment