صفحات

Saturday, 19 December 2020

کبھی تو کھل کے برس ابر مہرباں کی طرح

 کبھی تو کھل کے برس ابر مہرباں کی طرح

مرا وجود ہے جلتے ہوئے مکاں کی طرح

بھری بہار کا سینہ ہے زخم زخم مگر

صبا نے گائی ہے لوری شفیق ماں کی طرح

وہ کون تھا جو برہنہ بدن چٹانوں سے

لپٹ گیا تھا کبھی بحر بیکراں کی طرح

سکوت دل تو جزیرہ ہے برف کا لیکن

ترا خلوص ہے سورج کے سائباں کی طرح

میں ایک خواب سہی آپ کی امانت ہوں

مجھے سنبھال کے رکھیے گا جسم و جاں کی طرح

کبھی تو سوچ کہ وہ شخص کس قدر تھا بلند

جو بچھ گیا ترے قدموں میں آسماں کی طرح

بلا رہا ہے مجھے پھر کسی بدن کا بسنت

گزر نہ جائے یہ رت بھی کبھی خزاں کی طرح


پریم واربرٹنی

No comments:

Post a Comment