صفحات

Thursday, 3 December 2020

جب وہ محو خرام ہوتے ہیں

 جب وہ محوِ خرام ہوتے ہیں

ملتفت خاص و عام ہوتے ہیں

صبح ہوتے ہیں شام ہوتے ہیں

تذکرے تیرے عام ہوتے ہیں

میں زمانے کو بھول جاتا ہوں

آپ جب ہمکلام ہوتے ہیں

قیس اپنی جگہ، ہم اپنی جگہ

اپنے اپنے مقام ہوتے ہیں

پستیوں پر بھی ہو نظر جن کی

وہی عالی مقام ہوتے ہیں

تُو سلامت رہے ترے ہاتھوں

ہم غریبوں کے کام ہوتے ہیں

موت جس وقت آن پہنچی ہے

سارے قصے تمام ہوتے ہیں

بزمِ ساقی میں اور کیا واعظ

رِند ہوتے ہیں، جام ہوتے ہیں

قُرب میں فاصلے بڑھے اتنے

دور سے اب سلام ہوتے ہیں

مسجدِ عشق میں نصیر چلو

حسن والے امام ہوتے ہیں


سید نصیرالدین نصیر 

No comments:

Post a Comment