صفحات

Saturday, 19 December 2020

گناہگار ہوں یا رب عذاب نازل کر

 گناہ گار ہوں یا رب عذاب نازل کر

نہیں تو بے گناہی کا ثواب نازل کر

کتاب دے کے جو بھیجے ہیں تُو نے پیغمبر

پیمبرانِ سخن پر کتاب نازل کر

ہمارے دور کے مہوش ادا سے باغی ہیں

تو کوئی آیتِ شرم و حجاب نازل کر

ہے ایک زمانے سے کشتِ سخن میری تشنہ

تُو اس پہ عقل و فراست کا آب نازل کر

ہمارا علم جہالت کی وادیوں میں گم ہے

ہمارے ذہنوں پہ تازہ نصاب نازل کر

ہمارے دل سے گناہوں کےداغ سب دھو دے

اگر یہ دُھل نہیں سکتے عتاب نازل کر

میں منتظر ہوں جزا و سزا کا یوں کب سے

میرے وجود پہ روزِ حساب نازل کر

 ​

ضیاء الحق قاسمی

No comments:

Post a Comment