آنکھوں سے خوں چھلکتا رہا، دل دُکھا رہا
اور اس پہ بھی کسی سے نہ مجھ کو گِلا رہا
یا عشق تھا اداسی و تنہائی سے مجھے
یا وقت ایک موڑ پہ صدیوں رکا رہا
کیا رات شہرِ درد میں آئی نہ تھی ہوا
کیوں چاند تیرگی کے بھنور میں پھنسا رہا
سب ہمسفر شہید ہوئے راہِ شوق میں
پرچھائیوں کے وار سے اک میں بچا رہا
دل کے ورق پہ لکھا تھا جو کچھ، سو مٹ گیا
لیکن جبیں پہ جو بھی لکھا تھا، لکھا رہا
شہریار خان
No comments:
Post a Comment