صفحات

Thursday, 3 December 2020

کوئی تم سے پوچھے

 کوئی تم سے پوچھے

ستاروں کی رونق، چراغوں کی قربت، شبستاں کے اسرار

کافی نہیں تھے

جو تم نے کسی طاقِ دل سے لرزتی ہوئی موم بتی کی لو

بھی چرا لی

کوئی ہم کو دیکھے

سرِ رہگزر ایسے بیٹھے ہیں جیسے

کسی نے ذرا بھی جو پوچھا تو اس سے بگڑ کر کہیں گے

یہ دیر و حرم تو نہیں، کعبہ و آستاں تو نہیں ہے

خدا کی زمیں ہے، رہِ عام ہے کوچۂ یارِ نا مہرباں تو

نہیں ہے


مصطفیٰ زیدی

No comments:

Post a Comment