کمی
گلاب لہجوں میں دلگزیں سے سراب کیوں کر
گلاب لہجوں میں حسرتیں ہیں
گلاب لہجوں میں خواب کیونکر
گلاب لہجے جو خوشبوؤں کی ضمانتوں کے امین ٹھہرے
یہ کیسی ان میں جھلک دِکھی ہے
گلاب لہجوں میں خار کیونکر
یہ کون ہے جو گلاب چہروں پہ رنگ پت جھڑ کے بھر رہا ہے
یہ کون ہے جو گلاب لہجوں میں راکھ بن کے بکھر رہا ہے
گلاب لہجوں پہ نقش کتنی کہانیاں ہیں
خزاں رُتوں میں چمن میں اک آتشی سماں ہے
گلاب لہجوں پہ ڈھیر ساری اداسیاں ہیں
گلاب لہجے جو اک زمانے میں سانس لیتے تو گل کھلاتے
گلاب لہجوں پہ کس کا سایہ پڑا ہے
کیسی ویرانیاں ہیں
گلاب لہجوں میں اِک شکن ہے
گلاب لہجوں میں کیوں تھکن ہے
گلاب لہجوں پہ شام ہجراں کا عکس کیونکر
گلاب لہجوں میں ساعتوں کی نمی چھپی ہے
گلاب لہجوں میں رقص کرتے ہزاروں منظر
مگر جو دیکھو گلاب کی ہی
گلاب لہجوں میں کچھ کمی ہے
سارہ خان
No comments:
Post a Comment