صفحات

Friday, 1 January 2021

خود کو شرر شمار کیا اور جل بجھے

 خود کو شرر شمار کیا اور جل بجھے

اک شعلہ رخ سے پیار کیا اور جل بجھے

اک رات میں سمٹ گئی کل عمرِ آرزو

اک عمر انتظار کیا اور جل بجھے

پچھلے جنم کی راکھ سے لے کر نیا جنم

پھر راکھ کو شرار کیا اور جل بجھے

ہم بھی نصیب سے جو ستارہ نصیب تھے

سورج کا انتظار کیا اور جل بجھے

ہم روشنئ طبع سے شعلہ فروز تھے

ہر تیرگی پہ وار کیا اور جل بجھے


صہبا اختر

No comments:

Post a Comment