صفحات

Monday, 11 January 2021

اتنا ساماں میری وحشت کے لیے کافی ہے

 اتنا ساماں میری وحشت کے لیے کافی ہے

ایک ہی شخص محبت کے لیے کافی ہے

وہ میرا مسئلہ اچھے سے سمجھ جائے گا

چپ کا اک لفظ وضاحت کے لیے کافی ہے

پیڑ کا کٹنا کہیں دور کسی گاؤں میں

یہ اشارہ میری ہجرت کے لیے کافی ہے

جو مجھے جانتا ہے، جانتا ہے تجھ کو بھی

یہ حوالہ تیری شہرت کے لیے کافی ہے

یہ جو دروازے پہ دستک نہیں ہوتی کب سے

یہ بھی کھڑکی کی اذیت کے لیے کافی ہے

دیکھتے وقت مجھے دیکھنا ان آنکھوں کا

میری آنکھوں کی سہولت کے لیے کافی ہے


زہرا شاہ

No comments:

Post a Comment