اتنا ساماں میری وحشت کے لیے کافی ہے
ایک ہی شخص محبت کے لیے کافی ہے
وہ میرا مسئلہ اچھے سے سمجھ جائے گا
چپ کا اک لفظ وضاحت کے لیے کافی ہے
پیڑ کا کٹنا کہیں دور کسی گاؤں میں
یہ اشارہ میری ہجرت کے لیے کافی ہے
جو مجھے جانتا ہے، جانتا ہے تجھ کو بھی
یہ حوالہ تیری شہرت کے لیے کافی ہے
یہ جو دروازے پہ دستک نہیں ہوتی کب سے
یہ بھی کھڑکی کی اذیت کے لیے کافی ہے
دیکھتے وقت مجھے دیکھنا ان آنکھوں کا
میری آنکھوں کی سہولت کے لیے کافی ہے
زہرا شاہ
No comments:
Post a Comment