صفحات

Friday, 1 January 2021

الٰہی زمان و مکاں چھوڑ کر

 الٰہی زمان و مکاں چھوڑ کر

کہاں جاؤں تیرا جہاں چھوڑ کر

فلک سے بھی آگے نِکل جاؤں کیا؟ 

مقاماتِ آہ و فغاں چھوڑ کر

میں رگڑوں یہ ماتھا کہیں اور کیوں؟ 

خدایا تِرا آستاں چھوڑ کر

سلامت رہے میرے دل میں یقیں

جیوں سارے وہم و گماں چھوڑ کر

ہمیشہ تری جستجو میں رہوں

زمانے کے سُود و زیاں چھوڑ کر

میں بھٹکوں جہالت کے صحرا میں کیوں

تجلی بھرا آشیاں چھوڑ کر

میں وہ ہوں کہ تیری رضا ہو اگر

نکل جاؤں باغِ جناں چھوڑ کر


عاکف غنی

No comments:

Post a Comment