اک سیلِ بے پناہ کی صورت رواں ہے وقت
تنکے سمجھ رہے ہیں کہ وہم و گماں ہے وقت
پرکھو تو جیسے تیغِ دو دم ہے کھنچی ہوئی
ٹالو تو ایک اُڑتا ہوا سا دھواں ہے وقت
ہم اس کے ساتھ ہیں کہ وہ ہے اپنے ساتھ ساتھ
کس کو خبر کہ ہم ہیں رواں یا رواں ہے وقت
تاریخ کیا ہے وقت کے قدموں کی گرد ہے
قوموں کے اوج و پست کی اک داستاں ہے وقت
خاموشیوں میں سر نہاں کھولتا ہوا
گونگا ہے لاکھ پھر بھی سراپا زباں ہے وقت
ہم دم نہیں، رفیق نہیں، ہم نوا نہیں
لیکن ہمارا سب سے بڑا راز داں ہے وقت
کُل کائنات اپنے جلو میں لیے ہوئے
جاوید ہست و بود کا اک کارواں ہے وقت
عبداللہ جاوید
No comments:
Post a Comment