صفحات

Sunday, 10 January 2021

یہی نہیں کہ جدائی میں مار دیتا ہے

 یہی نہیں کہ جدائی میں مار دیتا ہے

وہ زندگی بھی مجھے بے شمار دیتا ہے

اسے بھی پیاسا سمجھتے ہو حد نہیں ویسے

جو خالی آنکھ میں دریا اتار دیتا ہے

تم اب تو وقت بھی دیتے ہو اس طرح مجھ کو

کہ جیسے کوئی کسی کو اُدھار دیتا ہے

یہ دینے والے کی گِنتی کو مسئلہ کیا ہے

کسی کو ایک کسی کو ہزار دیتا ہے

جدا کرے تو جدائی میں کچھ نہیں بچتا

قریب ہو تو مقدر سنوار دیتا ہے

کسی خوشی پہ بھی مجھ کو یقیں نہیں آتا

یہ دل خوشی کو مصیبت قرار دیتا ہے


زہرا شاہ

No comments:

Post a Comment