صفحات

▼

Monday, 18 January 2021

وسعت افلاک میں پھیلا ہے دھارا شام کا

 وسعت افلاک میں پھیلا ہے دھارا شام کا

شام ہجراں سے بھی آگے ہے کنارا شام کا

شب نوردوں پہ گراں گزرے گا جنگل کا سفر

آج ڈوبا شام سے پہلے ستارا☆ شام کا

روز آنکھوں میں سپرد خواب ہوتا آفتاب

روز پلکوں پہ اترتا ہے نظارا شام کا

جب بھی ہم نے عالمِ وحشت میں دیکھا ہے اسے

مل گیا اس کی نگاہوں سے اشارا شام کا

جسم و جاں روشن ہیں جس کے جلوۂ خوشرنگ سے

کس نے آخر چہرۂ تیرہ سنوارا شام کا

وہ بھلا سورج نکلنے کی دعائیں کیوں کرے

جس کے آنگن میں اترا ہو ستارا شام کا

آج کی دسترس میں کوئی جگنو بھی نہیں

آج شاہد کس طرح ہو گا گزرا شام کا


شاہد ماکلی

No comments:

Post a Comment