صفحات

Sunday, 10 January 2021

زندگی ایک سر میں جی لی تھی

 زندگی ایک سُر میں جی لی تھی

یار وہ لڑکی کیا سُریلی تھی

کیا اسی وقت تن کے بیٹھنا تھا

جب مقدر کی کھاٹ ڈھیلی تھی

جب تِرے پاس ایک جنگل تھا

تب مِرے پاس ایک تِیلی تھی

یہ کسی لمس کی بدولت تھا

آج چائے بہت نشیلی تھی

خواب بونے ہیں، خواب بوئے تھے

آنکھ گیلی ہے، آنکھ گیلی تھی

ہے تِرے بعد مختصر قصہ

زندگی جی نہیں تھی، جھیلی تھی

وہ کسی ہونٹ کی بھری چھاگل

کتنی میٹھی تھی، کیا رسیلی تھی

تیرے ملنے سے پیشتر افسوس

زندگی جینے والی جی لی تھی


مسعود ساگر

No comments:

Post a Comment